Home / مضمون / یونیورسٹی اور طلبہ تنظیمں، قسط سوم………ضیاءاللہ ہمدرد
کالم: ضیاء اللہ ہمدرد

یونیورسٹی اور طلبہ تنظیمں، قسط سوم………ضیاءاللہ ہمدرد

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن

باچا خان بابا کی خدائی خدمتگار تحریک اور اس کے نتیجے میں بننے والی سیاسی پارٹی عوامی نشینل پارٹی کے نظریات اور ایجنڈے کی پرچار کرنے والی تنظیم پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوبہ خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور ملک کی دیگر یونیورسٹوں میں اپنے نظرئے، سوچ، افکار اور سیاسی جدوجہد کے لئے شب و روز محنت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی، آمریت کے خاتمے، صوبائی حقوق، صوبائی خودمختاری، مادری زبان میں تعلیم، پشتو زبان اور ادب کی ترقی و ترویج، وفاق کی ناانصافیوں، مضبوط وفاقی اکائیوں، افغانستان اور قبائلی علاقوں میں جاری جنگ کی ہولناکیوں، مذہبی انتہا پسندی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا، کالاباغ، پاک چائنہ اکنامک کوریڈور اور افغانستان کے پشتونوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے لر و بر یو افغان کا نعرہ اور پشتون طالب علموں کو اپنے قام پرست ہیروز میرویس خان، دریاخان، خوشحال خان، باچاخان، ولی خان اور دیگر رہنماوں کی جدوجہد، اپنی قوم کی خاطر لازوال قربانیوں کی داستانوں سے روشناس کرانا اور انہیں قومیت کے نام پر متحد کرنا اس طلبہ تنظیم کو اپنی پارٹی کے منشور سے ورثے میں ملی ہے۔

پختونولی : پت، غیرت، ننگ ، تورہ، وفا، میلمستیا (مہمان نوازی)، ورورولی (بھائی چارہ)، جرگہ، ننواتے، پناہ، اور پشتونوں کی طرز زندگی، لباس،شلوار قمیص اور واسکٹ، روایات، ادب، یا قربان ، ٹپہ، چاربیتہ، غزل اور انقلابی نظمیں، دا خاورہ انقلاب غواڑی د آزادئ انقلاب اور مونگ یو د خیبر زلمی پختو زمونگہ شان دے اور اے زما وطنہ د لالونو خزانے زما جیسے ملی ترانے سننے کے لئے سرخ لباس اور سرخ ٹوپیاں پہنے اس والہانہ اور جذباتی انداز میں کھڑے ہوتے ہیں، جس طرح اسلامی جمعیت طلبہ پاک سرزمین شاد باد کے لئے احتراماََ کھڑے ہوتے ہیں۔ پشتو زبان میں تقریراور بسم اللہم “شروع کوم پہ نامہ د خدائے چہ بخونکی او مہربانہ دے” اس کی تنظیم کے عہدیداروں کا منفرد انداز ہے۔ میری ماردی زبان، ثقافت، شناخت، قومیت، اور حقوق کا تحفظ کرنے کی خاطر قربانیاں اور جدوجہد کرنے کے لئے مجھے اس تنظیم کے ساتھ والہانہ محبت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ ہر حال میں کسی بھی یونیورسٹی میں اپنا مشن برقرار رکھے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پنجاب میں بھی پنجابی زبان اور ثقافت کے لئے کام کرنا مشکل ہے اور جہاں پختونوں کے صوبے کے وزیراعلیٰ کی مادری زبان کی اہمیت اور اسے نظامِ تعلیم کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں سنتے ہی دماغ میں ڈز ہوجاتا ہے، اس طلبہ تنظیم کی جدوجہد، سوچ اور کام کسی بھی بڑے مشن سے کم نہیں اور خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔
امریکہ و روس کی جاری جنگ میں قوم پرستوں کا پہلے روس اور نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ اتحاد، پاکستان کا پہلے امریکہ اور اب روس و چین کے ساتھ اتحاد اور قوم پرست سیاسی پارٹیوں اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری کشمکش اور چپقلش کے نتیجے میں غداری کے سرٹیفیکیٹ اور ریاستی جبر کا شکار رہنے والی عوامی نشینل پارٹی اور اس کی لیڈرشپ کے اثرات سے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن بھی براہ راست متاثر ہوئی۔ سرکاری یونیورسٹییاں چونکہ وفاق کے زیر انتظام ہیں، اس لئے اس تنظیم کا راستہ روکنے کے لئے ہر قسم کے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، لیکن بہرحال ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود یہ تنظیم اپنا اثرورسوخ اور جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ عوامی نشینل پارٹی کی اپنی پارٹی کے اندرونی اختلافات، بیگم نسیم ولی خان کے اپنے بیٹے اور پارٹی کے خلاف پروپیگنڈے، اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جاری چپقلش، پالیسی اور نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پارٹی زیرِ عتاب رہی اور خاص طور پر طالبان کے ہاتھوں اس کے سات سو سے زائد کارکن اور عہدیدار شہید ہونے کی وجہ سے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بھی اس کی تپش محسوس کی۔
اپنی تمام تر خوبیوں، جذباتی اور والہانہ انداز میں مشن کے لئے جدوجہد، اور قربانیوں کے باوجود اور اپنی ثقافت اور زبان کی ترویج کے باوجود مجھے اس تنظیم سے بہت ساری باتوں کی وجہ سے نظریاتی اختلافات بھی ہیں اور اس کی تنظیمی ڈھانچے میں بہت ساری کمزوریاں بھی نظر آئیں۔ مثال کے طور پر پارٹی لیڈرشپ کی طرح اس کی طلبہ تنظیم کی لیڈرشپ کا ریموٹ کنٹرول بھی چارسدہ میں ہے، پارٹی کے ساتھ ساتھ طلبہ تنظیم کے اندر بھی جمہوری روایات کا فقدان ہے، تنظیم کے بعض عہدیدار تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، اس کے عہدیداروں اور ہاسٹل کے کمروں سے شاہی سید کے ملنگانہ نشہ قرار دینے والے چرس کی سوندھی خوشبو آتی ہے، اس کے بعض عہدیداروں کی آنکھیں ہر وقت سرخ ہوتی ہیں اور دوسرے طالبِ علموں کو متاثر کرنے اور اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔
ان تمام تر تنقید اور کمزوریوں کے باوجود پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پشتوںوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے جو ہر حال میں اپنی شناخت، نظریات، سوچ، زبان، اور روایات کے لئے ہمہ وقت مصروفِ عمل دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے بعد جمعیت سے بھی زیادہ متحرک ہے اور پشتو زبان میں ان کی تحریریں پڑھ کر مھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ غنی خان کی طرح مجھے بھی اپنی قوم سے والہانہ عقید ت ہے اور میں بھی اس کی طرح دنیا سے کہتا ہوں کہ اس قوم سے محبت کرو، کیونکہ جب ان سے محبت کی جاتی ہے تو یہ اس سے دوگنی محبت لوٹاتی ہے۔ یہ قوم محبت کے ساتھ دوزخ جانے کے لئے بھی آمادہ ہوتی ہے اوراگر زور سے ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل ہونے کی کوشش کی جائے تو یہ جنت جانے سے بھی انکار کردیتی ہے۔ یہی اس قوم ، اس کے نوجوانوں اور پختون طالب علموں کی ایک خاصیت ہے جسے دنیا سمجھنے سے قاصر ہے۔

زه یی پرورش د خپلی مینی په سورخئ کوم
خیر دی که ده ظلم مناری دنگی و لاړی دی
زه به سپیلنی کړم خپل یادونه ستا ارمان ګټم
خلګ به خپل ز ان ګټی او زه به باچا خان ګټم

جاری ہے

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *