Home / مضمون / غیر سیاسی کالم…………………تحریر: عدنان باچا

غیر سیاسی کالم…………………تحریر: عدنان باچا

جوں جوں انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں ملک میں سیاسی میدان گرم ہو رہاہے، جلسے جلوس،ریلیاں،دھرنے،احتجاجی مظاہرے،کارنر میٹنگز ان سب چیزوں کا سلسلہ شروع ہے۔
ہر کوئی اپنا راگ الاپ رہا ہے،کوئی روٹی کپڑا مکان تو کوئی بدلا ہے پنجاب بدلیں گے پاکستان کے نعرے لگا رہا ہے،اسی طرح گزشتہ چار سالوں سے تبدیلی پر کام کرنے والے اُسی تبدیلی کے لئے مزید پانچ سال مانگتے دکھائی دے رہے ہیں۔
قارئین! میری یہ تحریر بالکل بھی سیاسی نہیں اگر کچھ باتیں پارٹیوں کی غلطی سے بھی قلم کی نوک کے نیچے آجائیں تو اسے نظر انداز کرتے ہوئے میرے ساتھ آگے بڑھتے رہئے۔
بات ہو رہی ہے سیاسی ہلچل کی،اگر آپ لوگ ذرا غور اور مشاہدہ کرکے برساتی مینڈک کی مثال ذہن نشین کریں توبہتر ہوگا کہ جب بارش تھم جاتی ہے تو چاروں اور برساتی مینڈک نکل آتے ہیں۔
اب میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ میری یہ بات تو قطعاً سیاسی نہیں،جو حضرات سمجھ گئے ہوں وہ آگے پڑھتے رہئے۔ہاں تو ہم سیاسی ہلچل کی بات کر رہے تھے ،گزشتہ ہفتے ایک بہت ہی قریبی دوست سے طویل عرصہ بعد سامنا ہو جو کافی بدل گئے تھے ۔
چہرہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا اورمیں سوچ ہی رہا تھا کہ اس بندے کو دیکھا تو ہے مگر کہاں؟ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ بغل گیر ہوا اور مجھے کچھ یاد کرنے کا موقع نہ دیتے ہوئے سب کچھ خود ہی کہہ ڈالا، بھئی !اب اس ملاقات کو یاد رکھئے اور ایک چھوٹی سی کہانی ملاحظہ کریں۔
بات اُن دنوں کی ہے جب ہم لڑکپن کی زندگی گزار رہے تھے ،کالج اور کالج سے سیدھا گراؤنڈ ،نہ کوئی دوسرا کام نہ کوئی ٹینشن بس ہم تھے اور ہمارے دوست ،جس موصوف کا ذکر میں نے پہلے کیا وہ ہمارے کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے بہت ہی نیک اور اچھے انسان تھے۔
موصوف ہمیں ہمیشہ لوگوں کو تنگ کرنے ، شرارتیں کرنے اور اسی طرح کے دوسرے نیک کام کرنے کی تلقین دیا کرتے تھے، ان دنوں ایک سیاسی پارٹی کے یوتھ ونگ کے لئے فارم سازی کی جا رہی تھی ہمارے کپتان صاحب بھی چلے گئے ہمیں ساتھ لے کر اور اپنے ساتھ ہمارے فارم بھی زبردستی پر کروا کر ہمیں اُس سیاسی پارٹی کا ممبر بنا دیا۔
بس اب کرکٹ ختم ،کالج ختم وہی سیاسی پارٹی اور جلسے جلوس ،آئے روز ریلیاں نکالی جا رہی تھیں اور زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگتے ،ایک ریلی میں جب پولیس کے ڈنڈے کھائے تو ہمارے موصوف کپتان صاحب ہمیں چھوڑ کر بھاگنے پر اکتفا کرتے ہوئے غائب ہی ہو گئے۔
اس دن سے ہم نے سیاسی پارٹی بازی سے کنارہ کرلیا مگر ہمارے موصوف کپتان صاحب ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک عہدے پر چڑھتے ہوئے پارٹی کے ایک وفادار اور سرگرم عہدیدار بن گئے۔
2013کے الیکشن میں بھی موصوف سے ملاقات ہوئی تھی ووٹ مانگنے کے لئے آئے تھے ،اپنے لئے نہیں کسی اور کے لئے۔بس اس کے بعد پھر سے غائب ہو گئے تھے ۔
قارئین ! اب جب گزشتہ ہفتے موصوف کپتان صاحب سے ملاقات ہوئی تو بڑی خاطر مدارت اور خوش آمدیاں کر رہے تھے ،کہ بھئی آپ تو میرے سب سے اچھے اور قریبی دوست ہو ،آپ یہ ہے آپ وہ ہے ،اور آخر میں پھر سے ووٹ مانگ لیا۔
میں حیران رہ گیا کہ بھئی الیکشن میں تو ابھی کافی وقت ہے اور یہ ابھی سے ووٹ مانگنے کی کیا ضرورت ؟ تو موصوف مسکرائے اور فرمانے لگے کہ پارٹی قائدین سے احکامات موصول ہوئے ہے کہ انتخابات نزدیک ہے تیاریاں شروع کرلیں۔
میں پھر بھی نہ سمجھا تو وہ کہنے لگے کہ اس بار ہمیں ٹکٹ مل رہا ہے اور یہ کہتے ہوئے پھر سے میری تعریفوں کے پل باندھنے لگے ،بس پھر کیا تھا اُسے تسلی دی اور چائے کے پیسے بھی اپنے جیب سے دیکر وہاں سے چل پڑا۔
قارئین! میرے اس دوست سے گزشتہ 8سالوں میں بمشکل صرف دو ملاقاتیں ہی ہو پائیں اور دونوں ملاقاتوں میں وہ مجھ سے صرف مانگ ہی رہا ہے،اب میں ٹھہرا غیر سیاسی بندہ! میں کیا جانوں کہ یہ ہنر کیسے سکھایا جاتا ہے اور کس طرح سیکھا جاتا ہے کہ آٹھ سالوں میں اپنے قریبی دوست کی خیر خبر تو پوچھی نہیں صرف دو دفعہ ملے اور وہ بھی اپنے مفاد کے لئے۔
اس لئے آپ سب سے بھی گزارش کرتا چلوں کہ ان دنوں موسم گرجنے برسنے کا ہے تو برساتی مینڈکوں سے اپنے آپ کو دور ہی رکھیں۔ہاں آخرمیں ایک بار پھر عرض کرتا چلوں کہ میری تحری مکمل طور پر غیر سیاسی ہے ۔

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *