Home / مضمون / خواہشوں کا سفر……تحریر: ماریہ ماہ وش

خواہشوں کا سفر……تحریر: ماریہ ماہ وش

میں :ہماری خواہشوں کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے؟
یاد کرو ذرا… سب سے پہلی خواہش کیا تھی تمھاری؟ کس چیز کے لئے تم مچلے تھے سب سے پہلے؟ جو تمھاری یاداشت میں پہلی ہو…! سوچو…
وہ: پہلا پیار تھا۔ جس کو میں نے مانگا.
ہاں وہ پہلا پیار تھا، میری سب سے پہلی خواہش۔۔۔ اسے میں شدت سے چاہتا تھا. اس وقت میری عمر شاید 15 سال تھی ۔۔ یا نہیں ۔۔۔ اس وقت میں 14 سال کا تھا۔ ہاں …ہاں میں 14 سال کا تھا جب مجھے اسے حاصل کرنے کی خواہش ہوئی تھی.

میں: اچھا تو یعنی تم…اس وقت 14 سال کی عمر میں تم نے پہلی خواہش کی تھی۔ درست کہا نا میں نے؟
وہ: ہاں ایسا ہی تھا.
میں: عجیب سی بات نہیں کہ 14 سال تک تم نے کوئی خواہش ہی نہیں کی! اتنے عرصے تک تم کسی خواہش کے غلام نہ بن سکے؟ بھئی بہت مضبوط انسان ہو تم تو!وہ: اس میں بھلا مضبوطی کی کیا بات ہے… بس خواہش جب ہوئی، جیسے ہوئی سوہوئی.
میں: ہاں ہاں میں بھی وہی کہہ رہا ہوں کہ 15 برس کی عمر میں پہنچ کر خواہشوں کا احساس جاگا. کیا تم نے ابو سے کوئی کھلونا مانگا تھا؟
وہ: ہاں ایک سائکل مانگی تھی
میں: تو کیا پھر تمہیں سائکل فوری ہی مل گئی تھی؟
وہ: نہیں فوراً تو نہیں ملی، البتہ کچھ عرصے بعد نصیب ہوئی.
میں: تو اس کچھ عرصے( کچھ پہ زور دیتے ہوئے) میں اس خواہش میں شدت پیدا ہوئی یا کمی ہوئی؟
وہ: کم نہیں بلکہ شدید ہوگئ اور ضد بھی بڑھ گئ.
میں: یعنی تمھاری پہلی خواہش سائیکل تھی ناکہ پہلا پیار، اور عمر تمھاری 5 یا پھر 6 سال ہوگی؟
وہ: ہاں میں 6سال کا ہواتو سالگرہ پہ ملی تھی.
اچھا تم بتاؤ تمھاری خواہش کا سفر کب شروع ہوا؟ پہلی خواہش کیا تھی تمھاری؟
میں: (ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے) میری پہلی خواہش بھی پیار تھا اور وہ بھی پہلا پیار.
وہ: (حیرت سے) کیا…کیا… پہلا پیار؟
تو تم نے کبھی کسی کھلونے کی خواہش نہیں کی؟(طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ) واہ بھئی! خوب یاد کروا کروا کر پہلی محبت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سائیکل کو آگے لے آئے اور خود موصوف اپنی پہلی محبت کو آگے لے آئے، کیا تم عجیب نہ ہوئے؟ بھلا کیا عمر تھی تمھاری اس وقت؟
میں: نہیں میں بالکل عجیب نہیں ہوں. بس یاداشت سے ذرا پیچھے جاکر بتایا ہے.
وہ: (ایک بار پھر حیرانی سے) کیا مطلب… یاداشت سے پیچھے جاکر؟ تم واقعی عجیب ہو. یاداشت سے پیچھے بھلا کوئی کیسے جاسکتا ہے؟
میں: ( زیر لب مسکراتے ہوئے) میری پہلی خواہش محبت تھی اور بھی میری پہلی محبت. اس وقت میری عمر سات دن تھی. ساتواں دن جس بچہ اس دنیا کو قبول کرلیتا ہے اور وہ محبت اگرچہ مجھے بن مانگے ملی تھی “میری ماں” کی محبت. لیکن میری خواہش ہوتی تھی کہ میں ہر وقت اس کی گود میں رہوں لیکن یہ خواہش ہر وقت پوری نہیں ہوتی تھی. بس دن کے کچھ اوقات میں میسر ہوتی.
وہ: (ہنستے ہوئے) تم خود کتنے عجیب ہو ابھی مجھے عجیب کہہ رہے تھے 14 سال کی عمر میں پہلی محبت پہ اور ابھی خود ۔۔۔۔۔۔۔۔! ھاھاھا… لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی اور وہ یہ کہ تم یہ تمام باتیں کیوں کررہے ہو؟
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اس کو جواب دے ہی دوں. کیا حرج ہے بتانے میں.ہاں واقعی کیا حرج ہے؟ ( خود کلامی کرتے ہوئے)
میں: دیکھو میں یہ سوال اس لئے کررہا ہوں کہ آج میں اپنی ماں کے لئے تڑپ تڑپ کر رویا ہوں. اسے یاد کر کے مجھے…(بے اختیار آنسوں ٹپکاتے ہوئے)
وہ: اوہ اچھا ! تو ماں یاد آرہی ہے۔ لیکن یاد کا اس سوال سے کیا تعلق؟
میں: ہاں! لیکن یہ صرف اتنی سادہ سی بات نہیں کہ ماں یاد آئی تو میں سوالات کروں. یہ سوالات میں اکثر خود سے کرتا تھا لیکن جواب کل ملا.
وہ: اچھا تو پھر اور کیا وجہ اس کے علاوہ؟
میں: دیکھو ہماری خواہشوں کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے ہم نے کبھی اس پہ غور نہیں کیا. صرف خواہشوں کی تکمیل کے لئے وسائل کا تعاقب کیا.
وہ: ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو، کبھی اس جانب غور ہی نہیں کیا.
میں: ہماری خواہش ماں کی گود اور اس کی توجہ سے شروع ہوتی ہے. پھر جب وہ ہمیں بن مانگے ملنے لگتی ہے، بے شک ماں کے طے شدہ اوقات میں تو ہماری خواہش بھی اتنی ہی رہ جاتی ہے کیونکہ ہم دوسری خواہشوں کا ساتھ بھی پکڑ لیتے ہیں. جیسے کلھونے، آئس کریم یا نانا نانی کے گھر جانے کی خواہش. ان خواہشوں کا سفر چلتے چلتے جوانی کی محبت پہ آکر رکتا ہے کچھ دیر کے لئے اور ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے بس یہ آخری خواہش ہے اور اب صرف اس کا حصول مقصد ہے. لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ نشہ بھی اتر جاتا ہے.
پھر اولاد کی خواہش جاگ جاتی ہے پھر ان کے بہتر مستقبل کی خواہش، اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے دولت کی خواہش اور آہستہ آہستہ ان خواہشوں کو پورا کرنے میں جت جاتے ہیں. پھر جب عمر کے اس حصے میں پہنچتے ہیں جہاں سب خواہشیں پوری ہوچکی ہوتی ہیں یا ان کو پورا کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہوتا تو ایک بار پھر ماں کی محبت کے طلب گار بن جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس بار بن مانگے نہیں ملتی، تڑپنا پڑتا ہے کیونکہ ماں تو اب میرے پاس نہیں… نہ جانے کیوں پھر بھی تڑپ تڑپ کر ایک بار گلے لگنے کے لئے مچلتا ہوں، ضد کرتا ہوں. اور اس طرح بلکنے اور تڑپنے میں ایک سکون ملتا ہے مجھے اور جب میں رو رو کر سوجاتا ہوں تو لگتا ہے کہ ماں آئی تھی اور سوتے میں گلے لگا کر چلی گئی.
کتنی عجیب بات ہے نا خواہشوں کا سفر “ماں” سے شروع ہوکر “ماں” پر ہی آکر رکتا ہے۔( آنکھوں کی نمی آج نہیں چھپائی )

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *