Home / مضمون / بحرین میں جون کی ایک سرد شام……..تحریر: محمد عثمان

بحرین میں جون کی ایک سرد شام……..تحریر: محمد عثمان

دریا کے اوپر کچے پل پر گزرتے ہوئے ایسا لگا جیسے کہ جنت ہو۔ پانی کا شور و غوغا اور رقص صدا پر کیف ماحول پیدا کرہی تھی۔ جس کا کانوں پر لگتے ہی مسحور ہونا بعید از قیاس نہ تھا۔ نظروں کے سامنے سر سبز درختوں کا سکوت اور چنچل آوارہ قدموں کا بے منزل راہوں میں چلن ہوش کے دیواروں کو مسمار کے رکھ دیتا تھا۔ مد ہوش و مست یاراں کا سالم گروہ، خالی اور خلوت سی بھری گلیاں طے کرنے کے بعد خوبصورت انساں کے بھیڑ چڑھا۔ یہ تھا بازار۔

ہلکی رم جھم ٹوٹے ہوئے تاروں کی صورت فلک سے انگڑائیاں لیتے ہوئے اتر رہی تھی۔ افق سے کالی چادر پڑی تھی۔کالی چادر سے جدا ہوتی ہوئی موتیوں کے مانند بارش کی بوندیں افق نگاہ میں اتی۔ بیچ گروہ یاراں میں لطیفوں کی بارش تھی جو وقفہ وقفہ پر قہقہوں کی صدائیں بلند کرنے کا نتیجہ بنتی۔

بازار میں بے حد رونق بنی تھی۔ شام کے بعد کا وقت تھا۔ اندھیرا چھایا تھا۔ ہر طرف خوشی موجوں پر تھی۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ ذرا سی ٹھنڈک جون کے مہینے میں، اور دھیمی رنگ برنگی روشنیاں، روشنیوں سے ٹکراتی ہوئی بارش کی بوندیں، اور بوندوں میں پڑی زندگی جو روح کی نظر ہو کر گزرتی۔۔۔۔ اف وہ دلفریب نظارہ بیاں سے باہر ہے۔

محبت کا نغمه، انسانیت کا درس اور پیاروں کی پیار کی انکھ مچولی کے بیچ ہم کھڑے تھے کہ ہمراہ ساتھیوں میں ایک نے چائے پینے کی عرضی بھری۔ ہم بھی پیچھے پیچھے چل دیئے ذرا دور نہیں گئے تھے کہ ایک پرانی لکڑی کے ستونوں پر کھڑی قہوہ خانے پر نظر پڑی۔ اگرچہ چائے خانہ کھچا کھچ لوگوں سے بھرا پڑا تھا لیکن ہم نے کچھ گتھم گتھی سے اپنے لئے جگہ بنائی اور پرانے لیکن پرسکون کرسیوں پر براجمان ہوگئے۔

میں ابھی بیٹھا ہی تھا کہ شراب کا پیالہ پیش کیا گیا جسے نوش فرمانے میں ذرا سی دقت نہ ہوئی، شراب کا نشہ سر چڑھ گیا، خماری چھانے لگی، مست سرور میں اٹھ کھڑا ہوا اور جھومنے لگا۔ کرسیوں کے بیچ خالی جگہ میں جھومتے ہوئے پاگل دیوانے کو لوگ دیکھ کر حیرت ذدہ تھے۔ سب کی پھٹی آنکھیں مجھ پر مرکوز تھی۔ میں مے کے نشے میں سرشار اور بے خود جھوم رہا تھا۔ واہ کیا ظالم کیفیت تھی کہ جسے بیاں کرنے سے الفاظ لرز کانپ اٹتھے ہیں۔

پھر اچنک چونکا ارے یہ کیا میں تو اپنی جگہ پر مقیم ہوں۔ کرسیوں کے بیچ جگہ خالی پڑی ہے۔ لوگ اپنی چہ مگوئیوں میں مگن ہیں اور چھوٹے نے تو ابھی چائے پیش کی۔ہوں! تو اب یاد ایا۔ اب مجھے پتہ چلا کہ ماجرہ کیا ہے۔ چائی کی چسکی بھرتے ہی سارہ قصہ سمجھ گیا کہ ابھی ابھی میں تخیل کے قاموس میں ڈوبا تھا۔

خیر چائے سے مزہ لینے کے بعد ہم آزاد پنچھی اڑ گئے اور جانے کہاں گئے۔۔۔ شائد کھو گئے دور قدرت کی کرشمہ سازی میں، کہیں کہیں ہمیں اپنا اپ نظر اتا۔

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *