Home / مضمون / ” دیسان ” اور سوشل میڈیا

” دیسان ” اور سوشل میڈیا

لڑکپن میں جب ہم جذباتی تھے اور ایک جذباتی سیاسی جماعت کے حامی ہوا کرتے تھے تب کسی جرگے یا اجلاس میں بزرگ کہتے کہ چھوٹے اس مسئلے میں ٹانگ نہ اڑائے تو غصّہ اتا تھا۔ اب سمجھ میں ایا کہ لڑکوں اور بزرگوں کی حکمت و سوچ میں کتنا فرق ہوتا ہے۔
دیسان جو ایک عرصے سے کالام اور اتروڑ کے بھائیوں کے بیچ ایک تنازعہ بنا ہوا ہے اور اس چراگاہ پر حالیہ دنوں میں دونوں بھائیوں کے بیچ کشیدگی بڑھ گئی اور معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہماری مسلسل درخواستوں پر قابو میں رکھا ہوا ہے اور متصل علاقوں کے بزرگ بھی مسلسل صلح صفائی میں لگے ہوئے ہیں تو ایسے میں افسوس ہوتا ہے جب یہاں فیس بک پر ایسے پوسٹوں پر نظر پڑتی ہے جن میں جانبین میں سے بعض جذباتی، کم عقل، کوتاہ نظر نوجوان ایک دوسرے کو دشمن قرار دے رہے ہیں اور دیسان کی مٹی میں اپنے خون کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔
کالام اور اتروڑ کے بھائیوں سے پر زور درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم اس معاملے کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں۔ یہ نوجوان ان مسائل میں نہ کودیں اور مسئلے کو اپنے بزرگوں پر چھوڑیں۔
یہ زمین کا تکڑا بہت عزیز صحیح لیکن انسانی جانوں، انسانی رشتوں اور انسانی خون سے ذیادہ قیمتی نہیں ہے۔
ہماری روایت ہے کہ یہاں سارے تنازعات جرگوں کی مدد سے حل کئے جاتے ہیں۔ اس روایت کی پاسداری کرنی ہے اور دیسان کے معاملے میں اسی روایت پر اعتماد کرنا ہے۔ بزرگوں پر چھوڑنا ہے وہ اس مسئلے کا کیا حل نکالتے ہیں اور ان کے ہر حل کو ماننا ہے۔
دیسان سے اگے جہاں اور بھی ہے۔ دنیا یہاں اکر نہیں رکی ہے۔ خدارا وسیع سوچیں۔ خون خرابے کے بعد بھی ایسے سارے تنازعات مذاکرات سے ہی حل کئے جاتے ہیں۔ تو کیوں نہ کسی جھگڑے یا لڑائی سے پہلے ہی اس مسئلے کو بھی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔
میری ایک بار پھر اپنے ان نوجوانوں سے استدعا ہے کہ خدارا فیس بک پر دیسان کے بارے پوسٹس دینے سے گریز کریں۔
نوٹ: مجھے انتہائی خوشی ہے کہ مجھے اس پوسٹ کو لکھنے پر کالام اور اتروڑ کے باشعور نوجوانوں نے مجبور کیا۔ ان سب کا شکریہ اور ان کے شعور کو سلام۔

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *