Home / مضمون / ایک سکول جہاں‌ بچے بلیک بورڈ سے ڈرتے ہیں، تحریر (تنویر احمد کوہستانی)

ایک سکول جہاں‌ بچے بلیک بورڈ سے ڈرتے ہیں، تحریر (تنویر احمد کوہستانی)

قارئین کرام! آپ نے غور کیا ہوگا کہ انسان ہر اس لمحے میں خوشیاں سمیٹتا ہے، جب وہ اپنے خوش مزاج دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس طرح چند یاروں کے ساتھ بیٹھ جائے تو وقت کیسے کٹ جاتا ہے پتا بھی نہیں چلتا اور اس لمحے کی قدر ان کو لوگوں کو ذیاده ہوتی ہے جو دوستوں سے سالوں بعد ملتے ہیں۔ آج کل کے دور میں تو اپنے کاموں سے فرصت بڑی ہی مشکل سے ملتی ہے کہ آپ کچھ وقت دوستوں کے نام کرسکیں. پھر وہ وقت آپ کبھی نہیں بھولتے. میں بھی جب کسی سفر میں دوست کے ساتھ ہو تو وہ سفرنامہ قلمبند کرنے کو من ضرور کرتا ہے.
راقم کو بھی ایک دوست کے ساتھ کسی سکول کی رپورٹنگ کرنے جانا تھا. متعلقہ سکول کافی دور اور دشوار گزار علاقے پر ہونے کی وجہ سے جانے کو من ہی نہیں کررہا تھا، بس پیشہ ورانہ مجبوری کے تحت راستہ ناپنی شروع کردی. مسلسل ایک گھنٹے تک کا رستہ بڑی مشکل سے طے کیا. ہمیں راستے میں دو خطرناک مشکل ترین مرحلوں کا سامنا کرنا تھا. ایک تو راستہ انتہائی طویل اوردوسری طرف دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جاتے ہوئے راستے کا پتہ لگانا.
بس “ہمت مرداں مدد خدا” کہتے ہوئےسفر جاری رکھا. راستے میں ایک اللہ کے بندے سے ملاقات ہوئی. ہم نے دریافت کیا کہ متعلقہ سکول تک پہنچنے میں مزید کتنا وقت درکار ہے؟ بس کوئی آدھے گھنٹے میں پہنچ جاٶں گے، انہوں‌ نے کہا اورہم پھر سے چلتے بنے. سنسان پہاڑی علاقہ تھا. ہو کا سا عالم تھا. یوں لگ رہا تھا پہاڑ بھی ہمیں دانت دکھا رہے ہیں اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کرحیرانگی میں‌ سوچ رہے ہیں‌ کہ دو پاگلوں سے راستہ بٹک گیا ہوگا. انتہائی پرمزاح دوست ہونے کے باوجود سفر کرتے ہوئے بہت گھٹن محسوس ہورہی تھی. راستہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. تھکاوٹ سے بدن چور چور اور سارے پرزے ڈھیلے پڑ گئے تھے. جب حالت ذیادہ خراب ہونے لگی تو ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے. تھوڑی سی سانس نسبھل گئی تو سے سفر جاری رکھا. راستے میں ایک اور انسان مل گیا. پوچھنے پر بتایا گیا کہ بس کچھ ہی دیر میں آپ ایک دوکان تک پہنچ جائیں گے. دوکاندار صاحب آپ کو آگے کی ہدایات دے دے گا.
اللہ اللہ خیر سلا! اس دوکان تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے. چٹانوں اور ڈھلوانوں کو سرکرتے ہوئے بہت زور کی بھوک لگ چکی تھی۔ پیٹ میں سیٹیاں بج رہی تھیں. اسی دکان سے کچھ بسکٹس اور کولڈ ڈرنکس معدے میں اتارنے کے بعد آنکھوں میں تھوڑی روشنی آگئی. تھوڑی دیر سستانے کی خاطر دکان میں پڑی بنچ پر دراز ہوگیا اور دوکاندار موصوف سے اپنی منزل بارے دریافت کیا. وہ میری کیفیت بھانپ چکا تھا. اس نے تسلی دیتے ہوئے بتایا کہ بس آدھے گھنٹے میں پہنچ جاٶں گے. آدھے گھنٹے کا سننا تھا کہ اس پہلے والے بندے جس سے ملاقات ہوئی تھی اس پر تھو تھو بھیجنے کو جی چاہا کہ ایک گھنٹہ پہلے ہمیں آدھے گھنٹے کی جھوٹی تسلی دے کر مزید الجھن میں ڈال دیا ہے.
خیرتھوڑی دیر آرام کے بعد پھر سے سفر جاری رکھا. جاتے جاتے سامنے دو تین گھر نظر آنے لگے تو خوشی سے دل باغ باغ ہوگیا. امید ہوگئی کہ اب ہم منزل مقصود کو پہنچ چکے ہیں. ایسی خوشی محسوس ہوئی جیسے ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر، سیاستدان جلسے میں ہجوم کو دیکھ کر اور صحافی خراب حالات کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے. تھوڑی دیر میں ہم متعلقہ سکول پہنچ چکے تھے. وہاں سکون کی سانس لے کر کوریج شروع کردی.
کوریج کے دوران جو ہم نے دیکھا اور اپنے کیمرے کی آنکھ میں‌محفوظ کیا وہ مناظر کچھ یوں تھے.
سب سے پہلے تواس عمارت کو سکول کہنا بھی سکول کی بے حرمتی سمجھتا ہوں. ایک مقامی دوکان کو خالی کراکے اس میں اس سرکاری سکول کے بچوں کو بٹھایا گیا تھا جو سات سال پہلے سیلاب میں بہہ گیا تھا. باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جگہ کم پڑنے کی وجہ سے کچھ بچوں کو کھیتوں میں بٹھایا گیا ہے. اس چھوٹی دکان کے چھت پر جا کے دیکھا تو ایک بلیک بورڈ چھت پر نصب تھا اور ایک استاد ادھر بھی چند بچوں‌ کو پڑھا رہے تھے. اسی اثنا تیز آندھی چلنے لگی اور بلیک بورڈ دب سے نیچے آگرا. ادھر استاد نے بھاگم بھاگ بلیک بورڈ کو اٹھایا اور بچوں کو پھر سے نیچے دکان میں ٹھونس دیا تاکہ آندھی اور گرد و غبار سے محفوظ رہے.
جب ہم نے اس تمام تر صورت حال بارے بچوں کے والدین سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ سکول بورڈ گرنے سے کئی بچے زخمی بھی ہوچکے ہیں.
اس وقت یہ خیال ستانے لگا کہ صوبائی حکومت کے تعلیمی انقلاب کے دعوے کیا یہی تھے جو ہم دیکھ رہے ہیں. ہمارے حکمران گلا پھاڑ پھاڑ زمین و آسمان کی قلابیں‌م ملارہے ہیں‌ کہ ہم نے صوبے میں مثالی تعلیمی اصلاحات لائے ہیں.
کس سے گلہ کریں، کس سے منصفی چاہئے؟
نہ ہمارے ایم پی اے صاحب نے اس طرف توجہ دی اور نہ ایم این کو اس سکول بارے کچھ معلومات بھی ہے کہ نونہالان قوم کے ساتھ یہ ظالمابہ برتاٶ کیا جارہا ہے.
بس پوچھنے پر یہی بتایا جاتا ہے کہ اگلے ہفتے کام شروع ہوگا. افسوس سیلاب کے بعد وہ تعمیراتی کام مکمل تو کیا شروع بھی نہیں ہوسکا اور اب دو سو بچے ایک دکان میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں. اسے اچھی طرح اجاگر کیا مگر سیاستدان اس پر بھی اپنی سیاست چمکا رہے ہیں. بس مایوس ہوکر اس شعر کے ساتھ اپنا کالم اختتام پذیر کرنا چاہتا ہوں کہ،
اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے
تجھے چشم سے ٹپکا ہے کب ھو لخت جگر بھی

…………………………………
نوٹ: لکھاری کے خیالات اور نیچے کئے گئے تبصروں کے ساتھ ادارے کا متفق ہونا لازمی نہیں.

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *