Home / مضمون / این کرے کہ پین کرے، لیڈر سپین کرے
کالم: ضیاء اللہ ہمدرد

این کرے کہ پین کرے، لیڈر سپین کرے

الیکشن کا موسم ہے، جھوٹ کا موسم ہے، مبالغہ آرائی کا موسم ہے، پرانے وعدوں کی جگہ نئے وعدوں کا موسم ہے، سیاسی گرما گرمی کا موسم ہے، لوڈشیڈنگ کا موسم ہے، اور تو اور سخت گرمی کا بھی موسم ہے، ایسے میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عوام کے میٹر کا گھوم جانا عین فطری اور پاکستانی سیاست کے بینادی اصول اور خدوخال کے عین موافق ہے۔

پاکستان میں سیاسی منشور اور سیاستدانوں کے وعدوں کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لینا چاہیے، ورنہ بعد میں بہت ہی زیادہ پچھتانا پڑتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے دسمبر 2009 تک لوڈشیڈینگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے اداکار و موسیقار جناب میاں شہباز شریف نے حبیب جالب کی انقلابی شاعری سناتے اور مائیک توڑتے ہوئے زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کا دھمکی آمیز گانا سنایا تھا اور بعد میں اسے سیاسی ڈائیلاگ کہہ کر معافی بھی مانگی تھی۔ لیکن معافی عوام سے نہیں زرداری سے مانگی تھی۔ بالکل اسی طرح آج سے پانچ سال پہلے الیکشن کے دنوں میں پیرنی کے مجازی خدا نے نوے دن میں کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، وزیراعلیٰ ہاوس کو لائیبریری میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن لفٹر سے گرنے کے بعد کے پی میں حکومت بناتے ہی سب کچھ بھول گیا تھا، لیکن ہم آج تک نہیں بھول پارہے ہیں۔

ترکی میں وزیراعظم کی کرسی سے صدارت کی کرسی میں چھلانگیں لگانے والے تاحیات حکمران اور ملتِ اسلامیہ کے پاسبان رجب طیب اردگان کے پاکستان میں خلیفہ سراج لالا نے ہم جیسے بہت سارے نوجوانوں کے جذبات سے کھیلتے ہویے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آیا تو نوجوانوں کی شادیاں کرے گا، اور پھر خزانے کے اوپر بیٹھ کر بھی “این کرے گا پین کرے گا” کہتے ہویے ہمارے ارمانوں اور زخموں پر نمک پاشی کرکے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ایم ایم اے بنائی کیونکہ ایک بار پھر ان کا اسلام خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔

پرانے وعدے کس قدر ایفا ہوسکے، کس پارٹی نے اپنے وعدوں کا بھرم رکھا، کس پارٹی رہنما کے وعدے انڈین فلموں کے ڈائیلاگ ثابت ہوئے، کس سیاستدان کے ڈائیلاگ تامل فلموں کے ڈائیلاگ ہیں اور کونسا سیاستدان پشتو فلموں کا ہیرو بدر منیر کا کلاشنکوف ثابت ہوا جس میں کبھی گولیاں ختم نہیں ہوتی اور ہمیشہ “ڈزیدل” کرتا ہے، کس سیاستدان نے ڈائیلاگ مارتے وقت لسی پی ہوئی تھی، کون نسوار کے نشے میں تھا اور کون ووڈکا اور شیمپین پینے کے بعد خالص چرس کی سیگریٹ پی کر اور نسوار کی چونڈی ڈال کر ہوا میں اڑا تھا۔ یہ ایک لمبی داستان ہے۔ لیکن آئندہ الیکشن کے لئے کچھ بولا جا رہا ہے اور عوام کو کونسے سبز باغ دکھائے جارہے ہیں، آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

خزانے کے اوپر بیٹھ کر بھی “این کرے گا پین کرے گا” کہتے ہوئے ہمارے ارمانوں اور زخموں پر نمک چھڑ کر فضل الرحمان کے ساتھ ایم ایم اے بنائی کیونکہ ایک بار پھر ان کا اسلام خطرے سے دوچار ہوگیا ہے

 

2002 کی طرح ایک بار پھر مولویوں کو اکھٹا کیا گیا ہے اور ان کے مطابق اسلام کو عمران خان اور نواز شریف سے سخت خطرات لاحق ہیں۔ جن کے ساتھ ایک صوبے میں اور دوسرا مرکز میں اتحادی رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پختونخوا میں ایک ارب درخت لگا دئے جس کی وجہ سے پشاور میں برف پڑ رہی ہے اور تین سو پچاس ڈیم تعمیر کرکے پنجاب اور بلوچستان کو بجلی فروخت کرنے کے بعد آئندہ الیکشن کے لئے ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کیا، جسے سنتے ہی بیرون ملک پاکستانیوں نے اپنی اپنی پیکنگ شروع کردی ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کچھ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے شہریوں نے بھی ان نوکریوں کے لیے ابھی سے سی ویز میں ایڈیٹنگ شروع کردی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ہی کے ایک نوجوان سیاستدان نے کہا ہے کہ جس دن عمران خان وزیراعظم بن گیا اس دن بیرون ملک دو سو ارب ڈالر پاکستان آجائیں گے اور پاکستان کا سارا قرضہ بھی یکمشت ختم ہوجائے گا۔ سوات کے سپین خان نے بھی ٹرمپ کو خالی چیک دینے کی آفر کی تھی، لیکن شاید ٹرمپ نے اس وجہ سے ٹھکرادیا تھا کہ اگر پاکستان مقروض نہیں رہے گا تو پھر ہماری جنگیں کون لڑے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے کہا ہے اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو وہ احتساب کے عمل کو شفاف بنائے گی تاکہ پھر کسی ایس ایم ایس کو کروڑوں واپس نہ کرنا پڑے۔

ملاکنڈ کے اس پار چونکہ سپین خانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس لیے سراج لالا نے سپین خان کو شکست دینے کی خاطر کہا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو امریکہ و یورپ کے طالب علم سیدو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آئیں گے۔ یہ سن کر ہمیں اندازہ ہوا کہ دیسی شراب (لسی) پینے سے بھی انسان کے دماغ میں خلل آسکتا ہے، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ موصوف نے اسی تقریر میں یہ بھی کہہ دیا کہ عرب یہاں مزدوری کرنے کے لیے آئیں گے اور سوات اور دیر کے لوگ ان کے کفیل ہوں گے۔ یہ سن کر مشرق وسطیٰ میں مقیم پشتنونوں بالخصوص سوات اور دیر کے لوگوں نے اپنے متعلقہ کفیلیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ابھی سے انہیں متنبہ کردیا ہے کہ جب وہ ان کے کفیل بنیں گے تو ایک ایک پائی کا حساب لیں گے۔ گرمی کے موسم اور الیکشن کے موسم میں اسطرح کی باتین سن کر ہماری ہمدردیاں اپنے لیڈر سپین خان کے لیے اور بھی بڑ ھ گئیں جس نے وعدہ کیا ہےکہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ ہمیں مریخ پر لے جائے گا۔ ویسے بھی اس گولے پر رہنے کی گنجائش تقریبا ختم ہوچکی ہے اور ہمیں ہر حال میں چاہے دھاندلی بھی کرنی پڑے، اپنے سپین خان کو جتانا پڑے گا۔

 

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *