Home / مضمون / الیکشن ڈرامہ، صرف کردار ہی بدلے ہیں۔۔۔۔تحریر ضیاءاللہ ہمدرد
تحریر: ضیاءاللہ ہمدرد

الیکشن ڈرامہ، صرف کردار ہی بدلے ہیں۔۔۔۔تحریر ضیاءاللہ ہمدرد

الیکشن سے پہلے جو سیاسی ماحول بنا یا بنایا گیا، اس کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور بیرونی میڈیا نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کو نااہل کروا کر اور بعد میں جیل بھیج کر عمران خان کی جیت کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ نواز شریف کی نااہلی اور پھر ایوان ریفرنس میں اس کی سزا دونوں نسبتا کمزور عدالتی فیصلے تھے، اور شاید یہی وجہ تھی کہ نواز شریف نے سیاسی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا اور خلائی مخلوق اور یہ کون لوگ ہیں جیسے اصطلاحات کے ذریعے بالواسطہ طور پر پاکستانی اسٹبلشمنٹ سے جنگ لڑائی مول لی۔ اجمہوریت کے ناموس اور ووٹ کے تقدس کے نام پر لڑی جانے والی اس لڑائی میں نواز شریف اور اس کی بیٹی مریم نواز کا انداز تو کسی حد تک جارحانہ تھا لیکن اس کے چھوٹے بھائی حالات سدھارنے کے لئے دھیما لہجہ استعمال کرتا رہا۔

الیکشن سے قبل جہاں سارا ملکی اور بیرونی میڈیا اور تجزیہ کار عمران خان کے لیے ممکنہ سازگار ماحول کا رونا رو رہے تھے، اس وقت پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے اسٹبلشمنٹ سے صلح کرلی تھی اور ممنون حسین کی طرح اہم معاملات پر زیادہ تر خاموشی میں ہی عافیت جانی اور گرمی کی شدت کی وجہ سے اینٹ سے اینٹ بجانے کا ارادہ ترک کیا۔ محمود خان اچکزئی اور اسفندیار ولی خان نے بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ محمود خان اچکزئی پھر بھی کسی حد تک اپنے روایتی انداز میں اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیان بازی کرتا رہا اور پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اپنے کارکنوں کو احتجاج کی کال بھی دی، لیکن اسفندیار ولی خان اور اس کے بیٹے نے شاید اسٹبلشمنٹ کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے لئے ان کے حق میں اور پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف باقاعدہ طور پر بیانات دیے اور اپنے اداروں کی قربانیوں اور ملک کا نام بدنام نہ کرنے کی تبلیغ کرتے رہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پہلے ہی پاک سرزمین کے نام سے دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکی تھی یا کی جا چکی تھی۔ الطاف حسین اپنی سریلی آواز میں براہِ راست جرنیلوں کو گالیاں نکالتا رہا، جبکہ پاک سرزمین پارٹی پاک سرزمین شاد باد کے ترانے گاتی رہی۔

جمعیت علما اسلام ف کے سربراه مولانا فضل الرحمان اور جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے ایم ایم اے بنائی ليکن الیکشن سے قبل بننے والے ماحول پر کوئی واضح موقف نہیں اپنایا۔ جمعیت علما اسلام س کے سمیع الحق اور صوابی کے مولانا طیب نے ایم ایم اے کا نہ صرف بائیکاٹ کیا بلکہ دونوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے کسی حد تک کمپین بھی چلائی ۔ پنجاب کے بریلی مولویوں کو الیکشن سے قبل ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی کوشش کے نتیجے میں احتجاج کی کامیابی کی وجہ سے خادم حسین رضوی اور تحریکِ لبیک کی شکل میں اپنا مذہبی و مسلکی فورم مل گیا تھا، اس لیے انہوں نے ایم ایم اے میں شمولیت کی بجائے الگ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ جس طرح انہیں دھرنے سے واپسی کا کرایہ مل گیا تھا، اس لیے انہیں مفت ميں کچھ سیٹیں بھی مل جائیں گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ علامہ خادم رضوی نے جہاں نون لیگ کو ووٹ دینا حرام قرار دیا تو وہیں پنجاب میں جمعیت اہلحدیث کے علامہ ساجد میر نے انہیں اپنا نظریاتی حلیف قرار دیا اور نواز شریف کی حمایت کا اعلان کیا۔ البتہ دفاعِ پاکستان کونسل اور چند یک دیگر مذہبی سیاسی قوتوں نے تحریکِ انصاف کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔

اب صورتحال کچھ یوں بن گئی تھی کہ تمام سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتیں اہم قومی معاملات بشمول الیکشن سے قبل بننے والے ماحول پر واضح طور پر تقسیم ہوچکی تھیں۔ آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ نواز شریف اور عمران خان کے حق میں تقسیم ہوچکی تھیں۔ اس ساری صورتحال کا فائدہ براہِ راست نواز شریف اور عمران خان کو پہنچا۔ زرداری کبھی نواز شریف کبھی اسٹبلشمنٹ کا ساتھ دیتا رہا، اسفندیار ولی خان اور محمود خان اچکزئی نواز شریف کے مرید بن چکے تھے۔ ایک نے کہا نواز شریف کا ساتھ نہ دینے والا پشتون بے غیرت ہے جبکہ دوسرے نے کہا کہ نواز شریف کا استعفیٰ کسی کا باپ بھی نہیں لے سکتا۔ جماعتِ اسلامی ہمیشہ کی طرح وکٹ کے دونوں جانب کھیلتی رہی اور کبھی نواز شریف تو کبھی عمران خان کا ساتھ دیتی رہی۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنا مذہب، عقیدہ، مسلک، جمہوریت، اور سیاسی اسلام نواز شریف کی جھولی میں گروی رکھ دیا تھا اور آخر تک نواز شریف کا ساتھ دیتا رہا۔ ظاہر ہے جب کھیل نواز شریف اور عمران خان کے مابین تھا، تو فائدہ بھی ان دونوں کو ہی پہنچنا تھا۔ نواز شریف کی اسٹبلشمنٹ کےساتھ لڑائی کا سارا فائدہ ظاہر ہے عمران خان کو ہی پہنچنا تھا کیونکہ اسٹبلشمنٹ خود تو براہِ راست سیاست نہیں کرتی اور ٹوئٹر انکل آصف غفورسینٹ کمیٹی کے سامنے یہی یقین دہانی کرائی کہ ہم کبھی بھی بلا واسطہ سیاست میں شریک نہیں ہوں گے، جسے سینٹ نے تسلیم بھی کرلیا، لیکن شاید بالواسطہ طور پر سیاسی معاملات میں حصہ لینے کو سینٹ بھی اسٹبلشمنٹ کا بنیادی جمہوری اور آئینی حق سمجھتی ہے، اس لیے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔

الیکشن سر پر آپہنچے تو پاکستان اور بیرونِ ملک سارے سروے اور اداروں نے عمران خان کے حق میں پیشن گوئی کردی۔ نواز شریف نے جیل جاکر اپنے بیانیے کو کسی حد تک مزید تقویت تو بخشی لیکن ساتھ ہی اس کے دیگر اہم ساتھیوں کو سزا دلوا کر عمران خان کے لیے راستہ مزید صاف کرایا گیا، جبکہ اس ساری کشمکش میں نقصان باقی پارٹیوں کا ہوا جبکہ فائدہ عمران خان اور نواز شریف کو ہوتا رہا۔ اب میری طرح عام سیاسی فہم رکھنے والے افراد بھی فیس بک پر عمران خان کی اکثریت کی پیش گوئی کرچکے تھے، اور ہر کسی نے اپنے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف اور نواز شریف سمیت دیگر پارٹیوں کی ممکنہ سیٹوں کے اندازے بھی لگالیے تھے، اور ذہنی طور پر سب عمران خان کی جیت کے لیے اسقدر تیار ہوگئے تھے کہ الیکشن سے کچھ روز قبل اسفندیار ولی خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ پتہ نہیں وہ جیت رہا ہے یا اسے جتوایا جارہا ہے، لیکن عمران خان وزیراعظم آرہا ہے۔

اب جب اسفندیار ولی خان جیسے اعلیٰ سیاسی فہم رکھنے والے سیاستدان کو بھی اندازہ تھا کہ عمران خان وزیر اعظم آرہا ہے، اور مولانا فضل الرحمان جیسے زیرک اور سیاسی تدبر والے سیاستدان کو بھی معلوم تھا کہ عمران خان کو روکنا ناممکن ہے، نواز شریف اور مریم اسے لاڈلہ قرار دے چکے تھے، آصف علی زرداری کو بھی اندازہ تھا کہ کم از کم وہ اس مرتبہ اپنی مطلوبہ سیٹیں نہیں جیت سکتا، محمود خان اچکزئی نواز شریف کا انجام دیکھ چکا تھا، تو پھر ان سب نے مل کر الیکشن سے قبل عمران خان کے حق مین بننے والے ماحول پر کوئی اے پی سی کیوں نہیں بلائی؟ سب نے مل کرالیکشن کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا؟ یا اپنے سارے شرائط الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے سامنے کیوں نہیں رکھے؟ اس کا بہت ہی سیدھا سادہ جواب ہے کہ یہ سب لوگ امید سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان میں سے ہر کوئی اتنی سیٹیں حاصل کرلے گا، کہ جوڑ توڑ کی پوزیشن میں ہوں گے۔ زرداری سوچ رہا تھا کہ عمران خان اور نواز شریف میں جو بھی زیادہ سیٹیں لے گا، حکومت بنانے کے لیے اس کے پاس آئے گا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ عمران خان یا نواز شریف میں کسی کو اتنی اکثریت مل سکتی ہے کہ انہیں اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔ مولانا فضل الرحمان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے نام پر ایم ایم اے بنانے والا کسی شہد کے بوتل والے سے اپنی سیٹ ہارے گا، بلکہ وہ ۲۰۰۲ کے ایم ایم اے کے نتائج کا سوچ رہا تھا۔

مولانا فضل الرحمان جییسے مدبر سیاستدان کو بھی خوش فہمی لے ڈوبی اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس وقت کے ایم ایم اے اور آج کے ایم ایم اے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، وہ ایم ایم اے اس وقت کے سیاسی حالات اور افغانستان پر امریکی حملے کے تناظر میں بنی تھی اور کسی اور نے بنائی تھی۔ جبکہ موجودہ ایم ایم اے ان لوگوں نے خود بنائی تھی۔ سراج الحق کو بھی شاید اندازہ نہیں تھا کہ اس ایم ایم اے میں شمولیت سے وہ حرم کے ساتھ ساتھ دیر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا، بلکہ اسے بھی پرانے ایم ایم اے کے نتائج کی خوش فہمی ہی لے ڈوبی۔ محمود خان اچکزئی حکومت کر چکا تھا اس لیے خود کو زیادہ مضبوط سمجھ رہا تھا، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ صوبے میں اکثریت یا پھر دوسری پوزیشن کا خواب دیکھ رہا تھا۔ میرا خیال ہے کہ شاید کوئی سیاسی مخالف اسٹبلشمنٹ کے نمائندے کا روپ دھار کر اس کے ساتھ کچھ سیٹوں کے وعدے کرچکا تھا۔ تیجنتا اپنی سیٹ سے بھی ہاتھ دوبیٹھا۔ سراج الحق کے گھڑے میں پیاسا کوا ووٹ اور کنکر دونوں ڈال رہے تھے، تنیجہ یہ نکلا کہ گھڑا ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ آفتاب احمد خان شیرپاو کو شاید اپنے ادارے نے جبری طور پر ریٹائرڈ کردیا۔ تحریکِ لبیک کو اس بار کرایہ نہیں یا پوسٹر چھاپنے کے پیسے نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ میرے خیال میں وہ بجٹ الیکشن کی سیکورٹی پر تعینات ہونے والے اہلکاروں کی ایک روز کی تنخواہ کی مد میں چلا گیا اور یوں عمران خان نے پہلی جبکہ نواز شریف نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔

عمران خان کے سیاسی مخالفین نے نتائج دیکھے تو انہیں اندازہ ہوا کہ کروں گا کیا جو سیاست میں ہوگیا ناکام ؟ مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا۔ فرسٹریشن، ٹینشن، کنفیوژن میں انہوں نے سیاسی انتخابات کو ہی رد کردیا۔ جو جس قدر زیادہ مارجن سے ہارا تھا، اتنی شدت سے نتائج ماننے سے انکار کردیا۔ شہباز شریف اور زرداری نے البتہ وقت مانگ لیا۔ ان کے پاس سندھ اور پنجاب میں حکومت بنانے کا چانس ابھی تک موجود ہے۔ اس لیے ان کے نتائج کو مسترد کرنے کے بیان میں زیادہ شدت اور تلخی نظر نہیں آئی۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، اسفندیار ولی خان، آفتاب شیرپاو سمیت اپنی سیٹ ہارنے والے باقی سربراہان نے منظور پشتین سے بھی سخت موقف اپنانے اور اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے عمران خان اس قد مضبوط پوزیشن میں آگیا ہے یا لایا گیا ہے کہ اگر وہ اب کوئی جلسہ بھی کرے گا اور پنجاب، خبیر پختونخوا اور قومی اسمبلی سے جیتنے والے اہلکار حکومتی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے صرف سو سو افراد بھی لائے گا، تب بھی یہ ساری پارٹیاں مل کر اتنے افراد جمع نہیں کرسکتی۔ عمران خان کی پہلی تقریر نے بہت سارے مخالفین سے بھی داد وصول کی، جبکہ اس نے انہیں کوئی بھی حلقہ کھولنے اور دوبارہ گنتی کرنے میں ہر قسم کے تعاون کی بھی یقین دہانی کرادی۔ ایسے حالات میں اگر یہ لوگ خوامخواہ احتجاجی صورتحال اپنانا چاہیں، تو یہ ان لوگوں کا جمہوری اور آئینی حق ہے اور اگر یہ پانچ سال تک مسلسل بھی دھرنا دیتے رہے تو کوئی بھی ان سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔

لیکن اگر یہ لوگ کہیں گے کہ وہ ان کو اسمبلی میں جانے نہیں دیں گے، یا سارے شہر بلاک کردیں گے اور اس کی حکومت نہیں چل سکے گی، تو یہ ان کی سیاسی خام خیالی یا وقتی غصہ ہوسکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ سب مل کر بھی ایسا نہیں کرسکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو زرداری بچہ ہے اور نہ ہی شہباز شریف اتنا جمہوری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی سیٹ ہارنےوالے فضل الرحمان، سراج الحق یا اسفندیار کی خاطر اپنی جیتی ہوئی سیٹیں داو پر لگائیں گے۔ البتہ اگر واقعی کوئی مضبوط سیاسی مخالف اتحاد بن سکتا ہے تو وہ ان ہارے ہارے ہارے ، اپنی سیٹیں ہارے ہوئے لوگوں کا ہوسکتا ہے، جن کے پاس سوائے امنِ عامہ خراب کرنے کے جرم میں جیل جانے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ یہ کونسا راستہ اپناتے ہیں۔ البتہ پاکستانی قوم کو ایک بہت ہی زبردست تماشہ دیکھنے کو ملے گا کہ جو باتیں اور دلیلیں عمران خان اور اس کے سپورٹرز دیا کرتے تھے، اب وہ دلیلیں اس کے سارے مخالفین استعمال کے استعمال کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا کوئی منہ پھٹ خواجہ آصف بن کر انہیں کوئی شرم کوئی حیا کے ڈائیلاگ مارے گا۔ عمران خان کے مخالفین کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی کے سارے ٹوئیٹر اور فیس بک پیجز پر موجود مواد ڈاون لوڈ کرلے جبکہ عمران خان کے سپورٹرز دھرنے کے دوران حکومتی اراکین اور اتحادیوں کی تقاریر کا بغور جائزہ لیں اور انہیں اس نیت سے محفوظ کرلیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ میرے خیال میں ڈرامہ اور سکرپٹ وہی ہے، بس کردار بدلے ہیں !

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *