Home / مضمون / پشتون تحفظ مومنٹ مزید مستحکم ہورہی ہے
تحریر: ضیاءاللہ ہمدرد

پشتون تحفظ مومنٹ مزید مستحکم ہورہی ہے

پشتون تحفظ تحریک جنگ زدہ قبائیلی اور بندوبستی علاقوں سے اٹھنے والی مظلوموں کی وہ تحریک ہے جس میں پرائی جنگوں اور غیروں کو خوش کرنے کی خاطر چند سابقہ جرنیلوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اپنے ہی ملک میں اپنی عوام کے خلاف فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہونے والوں، کیمپوں میں زندگی بسر کرنے والوں، راشن کے لئے گھنٹوں قطاروں میں انتظارکرنے ہونے والوں، اپنے ہی علاقے میں اپنے گھر تک جانے کے لئے کئی کئی چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے والوں، ایک ہی سرکاری اعلان پر فوری طورپر اپنا گھر بار چھوڑنے والوں، ملک میں موجود ساری سیاسی پارٹیوں کی لیڈرشپ اور پارلیمان کی طرف سے نظرانداز کئے جانے والوں، اسلام آباد کے ایوانوں میں بیک جنبشِ قلم ان کے مقدر کے فیصلے ہونے والوں، ایک سیکیورٹی اہلکار پر گولی چلنے کے جواب میں سینکڑوں دکانوں کی پوری مارکیٹ اور کاروبار بمباری کی زد میں آنے والوں، اپنے ہی گھر جاتے ہوئے کدھر جارہے ہو؟ کا بار بار جواب دینے والوں، عظیم تر قومی مفاد میں میڈیا کے دور میں بھی صحافیوں کا داخلہ بند ہونے کی وجہ سے میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہنے والوں، انگریزوں کے کالے قانون ایف سی آر کے نیچے ستر سال تک زندگی گزارنے والوں، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں دہشت گردوں ہی کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والوں، اور ڈالروں کے جنگ میں ذہنی، جسمانی، مالی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہونے والے لاکھوں پشتون ماووں، بہنوں، بھائیو، بزرگوں اور غریب عوام کی آہیں، سسکیاں، دعائیں، التجائیں اور امن کی امیدیں شامل ہیں۔

اس تحریک کی بظاہر شروعات تو نقیب محسود قتل کیس کے بعد کراچی اور بعد میں پشتون قبائل کے مختلف شہروں میں احتجاج ، اسلام آباد میں دھرنے اور دیگر شہروں سے پشتون نوجوانوںوں بالخصوص یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طالبِ علموں، پروفیسروں، علمی و ادبی شخصیات، صحافیوں، ڈاکٹروں سمیت عوام بالخصوص قوم پرست جماعتوں کے فعال کارکنوں کی بدولت ممکن ہوئی، لیکن پورے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں جبری طور پر گمشدہ لوگوں کے لئے آواز اٹھانے، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے، ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے والے بے گناہ لوگوں کے لئے آواز اٹھانے، عوامی شعور کو ابھارنے، عوام کو ریاست کے سامنے کھڑا کرنے، اپنے آئینی اور قانونی حقوق مانگنے، میڈیا بلیک آوٹ کے نتیجے میں سوشل میڈیا کو استعمال کرکے کارکنوں کی نیٹ ورکنگ کرنے، بیرونِ ملک پشتونوں خاص کر قوم پرستوں کی پوری دنیا میں تحریک کا بیانیہ اجاگر کرنے اور بیرونی دنیا کے طاقتور میڈیا میں خاطر خواہ کوریج ملنے کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک پاکستان اور عالمی منظرنامے پر چھاگئی۔ ریاست نے اس تحریک کی لیڈرشپ اور سرگرم کارکنوں کو دبانے اور تحریک کا راستہ روکنے کے لئے وہی پرانے بے معنی اور بے اثر طریقے استعمال کیے ، جن میں غدار، بیرونی ایجنٹ، را اور این ڈی ایس ایجنٹ، شرپسند، دہشت گرد، غرض یہ کہ ہر وہ کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی جس سے دب کر یہ تحریک ختم ہوجائے لیکن جتنا ہی اسے دبانے کی کوشش کی گئی، اتنی ہی تیزی اور شدت کے ساتھ ابھرتی چلی گئی۔

اپنے آغاز سے ہی ریاست نے اس تحریک کی لیڈرشپ کو کبھی مذاکرات، کبھی ہٹ دھرمی، کبھی پروپیگنڈوں،کبھی فلائٹ کینسل کرنے، راستہ روکنے، کارکنوں کو اٹھانے، ڈرانے دھمکانے پھر چھوڑنے، ایف آئی آر درج کرنے اور ختم کرنے، کبھی بعض قوم پرست سیاستدانوں کے بیانات کے ذریعے ٹارگٹ کرنے اور دبانے کی کوشش کی، لیکن ملک میں جاری سیاسی منظرنامے، الیکشن کے ماحول، اس کی بعض لیڈرشپ کی الیکشن میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے، الیکشن کے نتائج، قوم پرست جماعتوں کی الیکشن میں حیران کن شکست، اور پارلیمان سے باہر ہونے کی وجہ سے انہی قوم پرست جماعتوں کی لیڈرشپ اور کارکنوں کا پشتون تحفظ تحریک کا بیانیہ اور نعرے اپنانے کی وجہ سے ایک بار پھر یہ تحریک پوری قوت کے ساتھ ابھر رہی ہے۔ اگر چہ بعض قوم پرست سیاستدان اسے اپنی سیاست کے لئے خطرہ سمجھ کر اپنے کارکنوں کو اس تحریک سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود انہی قوم پرست جماعتوں سے وابستہ فعال کارکن اپنی قیادت سے باغیانہ انداز میں برملا طور پر اس تحریک کو سپورٹ فراہم کرتے رہے۔ تاہم بعض قوم پرست جماعتوں نے شروع ہی سے اس تحریک کو تقویت دی اور اس کے بیانیے کو پارلیمان کے اندر اور باہر ہر قسم کا سپورٹ فراہم کیا اور ابھی تک غیر مشروط طور پر اس کی حمایت کر رہی ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے سامنے کئی ایک چیلنجز درپیش ہیں۔ اگر تحریک ان آزمائشوں سے عہدہ براں ہوتی ہے تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی اور پشتونوں کا ریاستی بیانیے کی وجہ سے بگڑا ہوا تشخص واپس بحال کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کا غیر پارلیمانی طرزِ سیاست یعنی عوامی تحریک ہونا، ہر مکتبہ فکر اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگوں کا تحریک سے وابستہ ہونا، آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر زندگی اور دیگر بنیادی آئینی حقوق کے لئے جدوجہد کرنا، پرامن احتجاج، مہذب رویہ اور احتجاج میں توڑ پھوڑ یا سڑک بند کرکے لوگوں کو تکلیف دینے سے احتراز کرنا، عدمِ تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر گولی کا جواب بھی صبر اور برداشت کے ذریعے دینا، تعلیم یافتہ خواتین کا اس کے جلسوں میں شرکت کرنا، گمشدہ اور غائب شدہ افراد کے لواحقین اور ملک میں جاری آپریشنوں کے متاثرین یا ان کے لواحقین کا اس کے جلسوں میں شریک ہونا، جنگ زدہ علاقوں کے متاثرین کی درد بھری کہانیاں عوام تک پہنچانا، اور ریاستی بیانیے اور پروپیگنڈے کے جواب میں قانون، آئین، انصاف اورآئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کی بحث جاری رکھنا ہی پشتون تحفظ موومنٹ کی اصل طاقت ہے اوربعض ریاستی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر پورے ادارے کے خلاف شدید قسم کی نعرہ بازی کے سوا کوئی ایک بھی ایسا نکتہ یا مطالبہ نہیں، جس پر کوئی انگلی اٹھاسکے۔ ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کا جواب تحریک کی لیڈرشپ کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ وہ مظلوم ہیں اور ان کی نعرے بازی اپنے غصے، درد، اور تکلیف کی شدت ریاست اور دنیا تک پہنچانا ہے، کیونکہ ان کے بقول ان کے اکثر مطالبات، مثال کے طور پر جبری گمشدگیاں، جاری اپریشنز، عوام کے ساتھ رویہ، جنگ زدہ علاقوں میں بارودی مواد کی صفائی، دہشت گردوں کے خلاف کاروائی، ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام، بچیوں کے سکول اڑانے والوں کے خلاف کاروائی اور عمومی امن کا قیام بلاواسطہ اسی ادارے سے منسلک ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شنوائی ہو۔

جبکہ دوسری جانب اسی نعرے بازی کو ریاست اور اس کے ادارے تحریک کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور ملکی اداروں کی توہین گردانتے ہیں، البتہ یہ بات ریاستی اداروں سمیت ملک اور دنیا بھر کے صحافی اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگار ابھی تک ثابت نہ کرسکے کہ یہ تحریک کسی غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کر رہی ہے یا ریاستِ پاکستان کے خلاف ہے، بلکہ آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنے جائز مطالبات کے لئے انتہا درجے تک باغیانہ انداز اپنایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس تحریک کی لیڈرشپ میں سے بعض نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو نہ ہی انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کی اجازت ملی بلکہ وہ الیکشن میں بھاری اکثریت سے جیت بھی گئے، جس کی وجہ سے بعض تجزیہ نگاروں کا یہ پروپیگنڈا کہ یہ لوگ را اور این ڈی ایس کے اینجنٹ ہیں، خود بخود دم توڑ گیا، کیونکہ بہرحال پاکستانی ریاستی ادارے را کے ایجنٹوں کو الیکشن لڑنے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتی اور نہ ہی ابھی تک اس کے کسی لیڈر یا کارکن پر غداری کا مقدمہ درج ہوا ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں اس تحریک کی کامیابی کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ الیکشن کے بعد قوم پرست جماعتوں کی لیڈرشپ اور ان کے کارکنوں کا غصہ اور ناراضگی اپنی اتنہا کو چھو رہی ہے اور یہی وہ جماعتیں ہیں جو اس تحریک میں نئی جان ڈال سکتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاست کو اپنی غلطیاں سدھارنا چاہئے نہ کہ مزید ہٹ دھرمی پر آجائے۔ شاید ریاست سمجھتی ہے کہ اگر اس تحریک کو شروع میں نہ روکا گیا تو کل کو ان کے مطالبات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، اور شاید پھر ریاست اور خاص طور پر مخصوص ادارے کو پشتون علاقوں میں اپنی بنائی ہوئی پالیسیوں پر عمل درآمد میں مزید مشکلات درپیشں ہوں۔ اس لئے اس تحریک کے فعال کارکنوں کو نہ صرف اٹھایا گیا بلکہ بعض ابھی تک نواز شریف کے ساتھ اڈیالہ جیل میں اس تحریک کو مزید تقیویت پہنچا رہے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کا اگلا جلسہ صوابی میں ہے۔ صوابی میں قوم پرستوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ ماضی قریب تک صوابی پر قوم پرستوں ہی کا غلبہ رہا ، اس کی وجہ باچا خان بابا کی صوابی میں خدائی خدمتگار تحریک کے وہ ساتھی تھے جنہوں نے پاک و ہند کی آزدی میں فرنگیوں کے خلاف میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا، لیکن بعد میں ناقص سیاسی حکمتِ عملی، نظریاتی کارکنوں کو پسِ پشت ڈالنے اور عدمِ تشدد کے فلسفے سے روگردارنی کے ساتھ ساتھ ریاستی مشینری، پیسے کی چکا چوند، اور میڈیا کی یلغار کی وجہ سے یہ اپنا اثر رسوخ اسی طرح برقرار نہ رکھ سکی۔ صوابی کے جلسے کا اعلان الیکشن سے پہلے ہوچکا تھا، لیکن الیکشن کے بعد ریاستی اداروں کے حامی بعض لوگوں نے اس جلسے کو ناکام بنانے کے لئے پوری کوششیں شروع کردی ہیں، جبکہ تحریک سے وابستہ لوگوں نے جلسے کے لئے مہم اور بھی تیز کردی ہے۔ ابھی نئی حکومت بنی ہی نہیں، پاکستان اگست میں اپنی سالگرہ بھی منا رہا ہے، جہانگیر ترین آزاد امیدوار خریدنے اور مخالفین انہیں ملامت کرنے میں مصروف ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر ابھی سے صوابی جلسے کی دھوم ہے۔ اگر پشتون تحفظ موومنٹ صوابی میں ایک کامیاب جلسہ معنقد کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو یہ جلسہ اس تحریک کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے اور مزید جارحانہ انداز اپنانے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ پشتون تحفظ تحریک میری نظر میں پاکستان کی بقا، جمہوریت، آئین، اور قانون کی جانب ایک قدم ہے۔ ایک جنگ زدہ صوبے کا باشندہ، ریاستی بیانیے کا شکار ہونے اور ایک غریب پشتون ہونے کی وجہ سے میری خواہش ہے کہ یہ تحریک ہر صورت فعال رہے، کیونکہ پورا پارلیمان مل کر جو مسائل حل کرنا تو درکنار، اجاگر بھی نہ کرسکا، جو پشتون تحفظ تحریک کے سرگرم اور بے لوث کارکنوں نے ریاست اور پوری دنیا تک پہنچا دیے ہیں۔ اس تحریک نے پشتونوں کے گلے دہشت گرد ہونے کا وہ طوق جو ریاست نے پرائی جنگوں کے ٹھیکے اٹھانے اور کچھ لوگوں کی ڈالر کی لالچ کی وجہ سے زبردستی ان کے گلے میں ڈال رکھا تھا، کسی حد تک اتارنے میں کامیاب ہونے پر وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کے لئے پشتونوں کی آئندہ نسلیں اس تحریک کی لیڈرشپ اور کارکنوں کی مقروض رہیں گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایس کے بی سی کا مصنف کی رائے اور نیچے دئے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

 

کمنٹس

آپ کی رائے

Check Also

شیداٞل اتروڑ، چُنڑیل: سلیم خانے اتروڑ

اُچات اُچات کھٞن، پالے پالے زنگٞل، نیل نیل ڈینڑ تے اسوں میٞہ لُکوٹ شانہ اٞ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *